میں اس دنیا کو بدل سکتا ہوں

Monday, April 2, 2007

جب انٹر نیٹ داغ مفارقت دے جاءے تب۔۔۔۔۔۔(انٹرنیٹ ٹیکنالوجی بلاگ

پاکستان میں یہ عام سی چیز ہے کہ انٹرنیٹ کنکشن چلتے چلتے بیٹھ جائے۔ کبھی کبھار یہ آپ کی آئی ایس پی کا مسئلہ ہوتا ہے اور کبھی کبھار پورے ملک کی انٹرنیٹ بیک بون فارغ ہو جاتی ہے۔ میری طرح کئی لوگ ایسے ہیں جن کی زندگی میں انٹرنیٹ ایک روزمرہ ضرورت کی حیثیت رکھتاہے۔ لیکن اگر مندرجہ بالا صورتحال آپ کے ساتھ پیش آتے تو کیا کریں؟ایسی صورتحال کیلیے آپ کے کمپیوٹر کے متعلق پانچ کام جو آپ باآسانی انجام دیکر اپنا وقت ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

  1. فضول بک مارکس صاف کریں اور اپنے کام کے بک مارکس کو زمروں میں منظم کریں۔اکثر لوگ وقت کی کمی کیوجہ سے کوئی اچھا ویب صفحہ دیکھتے ہی بک مارک کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں وہ صفحات تاخیر یا کسی اور وجہ سے آپ کے کام کے نہیں رہتے، یہ صفحات مفت میں آپ کی بک مارکس لسٹ میلوں لمبا کرنے کی وجہ بنتے ہیں۔ انہیں ڈیلیٹ کیجیے اور جو بک مارک آپ کے کام کے ہوں انہیں زمروں میں ترتیب دیجیے۔ اگلی دفعہ جب آپ اپنے بک مارکس استعمال کرینگے تو آپ کو مطلوبہ بک مارک تک پہنچنے میں نہایت آسانی ہوگی۔
  2. فضول پروگرام جو آپ نے صرف چیک کرنے یا بغیر کسی وجہ کے نصب کیے تھے انہیں ضائع کردیں۔ اب جبکہ ہر صارف کے پاس بڑی سپیس کی ہارڈ ڈسکیں ہیں تو پروگرام ہٹانے کا کیا مقصد؟ اس کا مقصد یا فائدہ یہ ہے کہ اس کی بدولت ڈسک سکین(Disk Scan) اور ڈی فریگ(Defrag) کے پروگرام تیز رفتاری سے کام کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ پروگرام آپ کی ہارڈڈسک کی صحت کیلیے نہایت مفید ہیں۔ ذاتی طور پر مجھے اپنی ہارڈڈرائیو کی فری سپیس دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ ابھی میں اس پر کچھ اور ڈالنے کے قابل ہوں، یعنی فی الوقت سپیس کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
  3. ایک عام استعمال کے کمپیوٹر کا اندرونی منظراپنا کمپیوٹر بند کریں، بجلی کی تار منقطع کر کے اپنے کمپیوٹر کی کیسنگ کھولیں اور مہینوں سے جما ہوا گردوغبار جھاڑیں۔ اس کام کیلیے عام استعمال ہونے والا بلوور اچھا ہے، لیکن خیال رکھیں بلوور کو زیادہ دیر تک اپنے مین بورڈ یا کھلے ہوئی کمپیوٹر کے کسی اور حصہ پر زیادہ دیر نہ پکڑے رکھیں۔یاد رکھیں حرارت آپ کے کمپیوٹر پارٹس کی بڑی دشمن ہے۔ کولنگ فینز (Cooling Fans) جو آپ کے کمپیوٹر پارٹس کو ٹھنڈا رکھتے ہیں بہت جلد گردغبار اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور ہفتوں میں یہ گردوغبار سے اَٹ جاتے ہیں، جس سے ان کی کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً آپ کا کمپیوٹر زیادہ گرم ہوتا ہے جس سے اسکے کام کی رفتار پر منفی اثر پڑتا ہے، اسلئے وقتاًفوقتاً ان کی صفائی کرتے رہیے۔
  4. اگر آپ بلاگر ہیں تو اپنے بلاگ کیلیے اگلی تحریر لکھیں اور کسی ٹیکسٹ فائل یا ورڈ فارمیٹ میں محفوظ کرلیں۔ اگر آپ بلاگ ڈیسک نامی بلاگ کلائنٹ استعمال کر رہے ہیں تو آپ کا کام اور بھی آسان ہو جائیگا۔ بلاگ لکھنے کیلیے انٹرنیٹ کنکشن کے ٹھیک ہونے کا انتظار نہ کریں۔
  5. ہارڈسک کی صحت کیلیے مفید پروگرام( جو تمام ڈیٹا کو ہارڈڈسک پر ترتیب دیتے ہیں تاکہ ہارڈڈسک کسی بھی فائل/پروگرام کو سرعت سے چلا سکے) اور غیرضروری فائلز ختم کرنے والے پروگرام چلائیں۔ ونڈوز میں ایسے پروگرام سسٹم ٹولز کے مینو میں موجود ہوتے ہیں۔
چھٹا کام اسلئے مندرجہ بالا افعال میں شامل نہیں کیا کیونکہ اس کیلیے ہوسکتا ہے آپ کو آن لائن ہونے ضرورت ہو۔ چھٹا کام یہ کہ اپنے تمام ویب سائٹس، بلاگز، ای میل ایڈریس، مختلف فورم کے یوزرنیم اور پاس ورڈ کسی فائل یا اپنی ڈائری میں محفوظ کرلیں۔ ایک عام انٹرنیٹ صارف بھی آج کل پانچ، دس یوزرنیم اور پاس ورڈ کا مالک ہوتا ہے۔ بسا اوقات اتنے سارے اکاؤنٹس کے یوزرنیم اور پاس ورڈ یاد نہیں رہتے یا آپس میں گڈمڈ ہوجاتے ہیں جس سے خوامخواہ ذہنی کوفت ہوتی ہے۔ اسی مشکل سے بچنے کیلیے یہ ترکیب یقیناً کارآمد ثابت ہوگی۔

Saturday, March 31, 2007

نجات دہندہ

مسلمان عجیب لوگ ہیں۔ ان کے لطیفے بڑے مزے کے ہیں۔ اگر کسی کو اکتوبر 2006 یاد ہو تو کیسا شور مچا ہوا تھا کہ بس ڈیموکریٹس آ گئے تو سارے مسئلے ختم ہو جائیں گیں۔ یہ ریپبلیکنز ہمارے دشمن ہیں۔ یعنی مسلمانوں کا نجات دہندہ بھی کوئی تھا تو وہ تھی ڈیموکریٹ پارٹی۔ نومبر میں یہ شور اپنے عروج پر پہنچ گیا۔

ہمارا میڈیا تک ایسے بتلا رہا تھا کہ بس ڈیموکریٹس آتے ہی سارے مسئلے ختم ہو جائیں گیں۔ یہ جتنی مصیبتیں ہیں غائب ہو جائیں گیں۔ ٹی وی پر اتنے بڑے بڑے نام بیٹھے گپیں مار رہے تھے۔ کہ جی بس ڈیموکریٹس آ جانے دیں پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے۔

ہوا کیا؟ ڈیمو کریٹس آئے اور ہوا کچھ بھی نہیں۔ دل کو تسلی دی گئی کہ ابھی تو انہوں نے جنوری سے کام شروع کرنا ہے۔ جنوری آ کر ختم ہو گیا۔ پھر دل کو تسلی دی کہ پہلے وہ اپنے ملک کے معاملات دیکھ لیں پھر ہمارے طرف نظر کرم کریں گیں۔ اب تیسرا ماہ شروع ہو گیا لیکن ڈیموکریٹس ہیں کہ ان کو رحم آ ہی نہیں رہا۔

ہمارے سارے کے سارے دانشور ٹی وی سے غائب، حالانکہ ان سب کو لائن میں کھڑے کر کرے جوتے لگانے چاہئے کہ عقل کے دشمنوں نجات دہندہ کن کو بنا رہے تھے؟

پاکستان کے اخبارات میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی ہو گی اور اس کو کسی ہدایت پر ایسے شائع کیا گیا ہو گا کہ ڈیموکریٹس امریکی افواج کو واپس بلا رہی ہے اور اس کے لئے صدر بش کے فنڈز کی درخواست کو افواج کی واپسی سے مشروط کر کے منظور کر لیا گیا ہے۔ صدر بش کے اعلان کا کہ وہ اس کو ویٹو کر دیں گے نامعلوم بتایا گیا ہو گا کہ نہیں۔ یعنی یہ تاثر دیا گیا ہو گا کہ فوری واپسی تو کبھی بھی ممکن نہیں ہوتی لہذا بالاخر اس کے لئے ایک لائحہ عمل طے کر لیا گیا اور اب اس پر عمل ہونا ہے۔

اب یہ قوم کو گمراہ کرنے والے دانشور حضرات کبھی منہ سے نہیں بکیں گے کہ یہ کیا ہوا ہے؟ مسئلہ کا صیح حل بتانے کے بجائے یہ لوگ نجات دہندہ بھی اور قوم کا ہی چنتے ہیں۔

2008 صدارتی انتخابات کا سال ہے۔ 2006 کے مڈ ٹرم الیکشن افواج کے مسئلے پر جیتے گئے ہیں۔ لہذا ڈیمو کریٹس کی کوشش ہے کہ اس مسئلے کو جوں کا توں رہنے دیا جائے اور آہستہ آہستہ کر کے اس طرح پکایا جائے کہ اگست 2008 سے اس پر دھواں دھار مباحثے کروا کر صدارتی انتخابات میں جیت حاصل کی جائے۔ اس سے پہلے اس کا حل ان کے فیور میں کیوں کر ہو؟

صدر بش نے کانگریس سے اپنی جنگوں کے شوق کو پورا کرنے کے لئے 100 بلین ڈالر مانگے تھے۔ ساتھ میں disaster fund کے طور پر 3 بلین کی رقم مانگی گئی۔ کانگریس نے حاتم طائی کی قبر کو لات مارتے ہوئے 126 بلین کی رقم عنایت کی۔ ساتھ میں اگست 2008 تک افواج کی واپسی کی شرط لگا دی۔ ویسے حساب میں تیز دماغ سوچ سکتا ہے کہ صدر نے مانگے کل ملا کر 103 بلین اور دئے گئے 126 بلین۔ یہ ماجرا کیا ہے؟ میں اس کا جواب لوگوں پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں۔

مسلمان ہیں تو سب کے سب بےوقوف (بشمول میرے) لیکن ان کے دانشور حضرات کو اس قدر مرمت کی ضرورت ہے کہ ان کا سویا ہوا دماغ بیدار ہو سکے۔ قوم کو گمراہ کرنے کا کام حکومت سے انہوں نے ٹھیکے پر لیا گیا ہے چونکہ ابھی تک مجھے کوئی بریف کیس موصول نہیں ہوا لہذا میں قوم کو صیح صورتحال سے مطلع کرتا رہونگا۔ جیسے ہی کوپلاٹ الاٹ ہوا میں بھی قلا بازی کھا لونگا۔ :P

ہیرے لوگ

کیسے کیسے ہیرے لوگ اس ملک نے رول دئيے هیں ـ

جاپان میں کتنے هی پاکستانیوں کے منه سے میں یه فقره سنا هے ـ
میرا تو ہاسا نکل جاتا هے اس فقرے کو سن کر اور مجهے وحدت کالونی کا وه لڑکا یاد آجاتا هے جس کو کسی مہربان نے جاپان پہنچا دیا تها اس کاایک بهائی وکی تو کام کرتا تها مگر یه لڑکا کام کاج نہیں کیا کرتا تها میں نے بهی اس کو کئی جگه کام پر لگوانے کی کوشش کی مگر اس کو کام پسند هی نہیں آتا تها اور جاپان کے گلے کیا کرتا تها ـ
جاپان سے تنگ آکر یه لڑکا واپس پاکستان جانا چاهتا تها
اور کہا کرتا تها که میں پاکستان جا کرمحنت کرکے ایک دفعه سب کو دیکها دوں گا ـ
پاکستان میں یه لڑکا مسواکیں بیچا کرتا تها ـ

ایک اور لڑکا تها جو که گوجرانواله میں موٹر سائیکل مکینک تها جاپان میں اس نے بدمعاشی میں نام کمایا ـ
ایک مکان کو آگ لگانے اور ایک قتل کرنے کا تو میں بهی جانتا هوں ـ
یه لڑکا بهی کہا کرتا تها که کیسے کیسے ہیرے لوگ اس ملک نے رول دئيے هیں ـ
اور آج کل یه لڑکا گوجرانوالہ میں چاند گاڑی چلاتا ہے ـ

ہمارے گاؤں کے چیمه جاٹوں کی مہربانی سے مجهے بهی ایک لڑائی یہاں جاپان میں بهگتنی پڑی تهی ـ
رات کے پچهلے پہر جِن پندره لڑکوں نے میرے گهر پر حمله کیا تها ان میں سے ایک لڑکا ان دنوں سیالکوٹ کے لاری اڈے پر چائے کا کهوکها چلاتا ہے ـ

وه لگ جو کسی بهی ہنر کو نہیں جانتے علم سے کوئی تعلق نہیں رکهتےکا وه لوگ ایسی بات کرتے هیں بندے کو حیران کردیتے هیں ـ
کل کچھ لوگ بیٹهے تهے اور بات هو رهی تهی تیراکی کی!ـ میں نے یه بات کرکے که '' میٹهے پانی کی نسبت سمندری پانی میں تیراکی آسان هوتی هے'' بہت بے عزتی کروائی ـ
اصل میں غلطی میری تهی که مجهے ایسے لوگوں میں یه بات کرنی هی نہیں چاهیے تهی جو گریوٹی، حجم اور کشش ثقل کی ڈیفنشل هی نہیں جاتے ـ

سمندر بندے کو آپنے اندر کهینچتا ہے
کہنے والے عموماً وه لوگ ہوتے هیں جو پنجاب کے پلے بڑهے هوتے هیں اور تیراکی نہیں جاتے هوتے ـ
سمندر میں پاؤں رکهتے هی جب ریت پاؤں کےنیچے پهسلتی هے تو تیراکی نه جاننے والے بندےکو ایسے لگتا ہے که سمندر نے کهنچنا شروع کردیاـ
کسی سیانے نے کہاتها که
انسان مشاہدے کا غلام هوتا ہے
کم علم کا غلط مشاہده اس کو اغلاط کا غلام بنا دیتا ہے ـ

بات کچھ اور کرنی تهی اور بات کہیں کی کہیں نکل گئی ـ

Wednesday, March 21, 2007

محض سوچ سے دماغی ہیت بدلنا ممکن ہے۔

ایک تجربے میں ساءنسدانوں نے دس نوجوانوں کو کہا کہ وہ پیانو کی مشق کریں۔ وہ تین ہفتوں تک روزانہ ایک گھنٹہ پیانوں بجاتے رہے۔ مشق کے اختتام پر جدید مشینوں کے ذریعے ان کے دماغ کا معاءنہ کیا جاتا۔ تین ہفتوں کے بعد ساءنسدانوں کی یہ جان کر حیرت ہوءی کہ دماغ میں موٹر کورٹیکس کا جو علاقہ انگلیوں کی حرکت سے وابستہ ہے وہ ارد گرد کے علاقے میںیوں پھیل گیا جیسے بیل پھیلتی ہے۔ اس اور دیگر تجربات سےماہرین کے سامنے یہ نکتہ آیا کہ انسان جس حصہ جسم کو زیادہ استعمال کرے، دماغ بھی اسے کورٹیکس کا زیادہ حصہ دے دیتا ہے۔

ساءنسدانوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ نءے دس نوجوانوں کو کہا کہ وہ روزانہ مخصوص وقت "تصور" میں پیانو بجاءیں یعنی دس پندرہ منٹ یوں بیٹھیں جیسے پیانو بجا رہے ہیں۔ دس دن بعد ان کے دماغ کی اسکیننگ کی گءی ، تو ماہرین ی دیکھ کر حیران رہ گءے کہ دماغ کے موٹر کورٹیکس میں انگلیوں کی حرکت سے متعلق علاقہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ پھیل چکا ہے۔ یہ ایک حیران کن انکشاف ہی ہے کہ محض سوچ سے دماغی علاقے کی ہیت اور عمل بدلا جا سکتا ہے ۔ اس کے معنی ہیں کہ ذہنی ورزش سے دماغ کی ساخت بدلی جا سکتی ہے۔

Tuesday, March 20, 2007

بدتمیز کے سوال لات

سوال لات

مجھے سوالات سے چڑ ہے۔ اگر موڈ اچھا نہ ہو تب تو زہر لگتے ہیں۔ میری عادت خاموشی سے کام کرنے کی ہے۔ اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں تم بولتے ہو کہ نہیں؟ اس کے برعکس امی کا کہنا ہے کہ تم بولتے بہت ہو۔ دوسرے لوگوں کا پوچھنا ہوتا ہے تم کبھی مسکراتے بھی ہو؟ امی اس معاملے پر متفق ہیں کہ بچے کا موڈ خراب ہی رہتا ہے۔ جبکہ میرے خیال سے میری اکثر ہی دندیاں نکلی ہوئی ہوتی ہیں۔

اکثر لوگ عجیب عجیب سوال کرتے ہیں۔ بچپن سے اتنے بڑے رقبے پر پھیلے ہوئے خاندان کو جواب دے دے کر تنگ آ گیا ہوا ہوں۔ وے کاکا کنے پین پراہ ہو؟ اوئے ایہہ تحصیلدارنی دا پوتا ہے؟ ایسے بزرگان کا اگلا کام عمر پوچھنا ہوتا ہے۔ ہر فنکشن پر لڑکے اتنا لڑکیوں کو نہیں تاڑتے جتنا یہ بزرگ ہم معصوموں کو تاڑتے ہیں باقاعدہ تبصرہ ہوتا ہے فلاں نے آ کر سلام کیا تھا؟ ابا جی سے ملا تھا وہ؟ اب ہمارے قریبی بزرگان ہمیں پکڑ پکڑ کر پوچھ رہے ہیں فلاں کس سلام کیا تھا؟ ابو چاچو اور پھپھو یہ تین شائد مجھے پبلک ریلیشن آفیسر کی پوسٹ پر لگوانے کا تہیہ کئے ہوئے تھے۔

ہمارے ابو کے ایک عزیز اپنے بچوں کے ہمراہ افطاری پر مدعو تھے۔ دعا ہو رہی تھی۔ اتنے میں ان کے ایک صاحبزادے دوسرے سے پوچھتے ہیں اس نے ابا جان کو سلام کیا؟ اس نے کہاں معلوم نہیں لیکن مجھے نہیں کیا۔ میرا تو دل چاہا سامنے پڑے سموسے پر سلام پڑھ کر اس کو کھینچ ماروں لیکن سموسہ اس سے زیادہ کام کا تھا۔

ایسے بزرگ آپ کی شادی کے بڑے متمنی ہوتے ہیں۔ ذرا موقع محل کا خیال نہیں کرتے۔ شادی ہے تو نکاح سے پہلے آپ کے نکاح کے لئے پریشان ہو رہے ہوتے ہیں۔ آپ نے دور سے سلام مارا اور نکلنے کی کی لیکن وہ آپ کو آواز دے رہے ہیں آپ ایسا ظاہر کر کے کہ شور میں آواز نہیں آ رہی کھسکنے کی کرتے ہیں لیکن ابو، چاچو یا پھپھو پیچے سے بغیر کسی ناغے کے آوازیں دینی شروع کر دیتے ہیں۔ اب جائے بنا چارہ نہیں ہوتا۔

اب یہ بزرگ ادھر ادھر کا انٹرویو کر کے کہتے ہیں بس دو کو سال رہ گئے ہیں پھر تمہاری باری ہو گی۔ اس کے بعد ایک قہقہہ جس کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی لگاتے ہیں اور آپ کی خاموشی کو وہ شرمانا سمجھتے ہیں۔

اس سے زیادہ بے بسی تب محسوس ہوتی ہے جب کسی کے مرنے پر تماشہ دیکھنے سب جمع ہو جاتے ہیں اور پڑھنے کی بجائے سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں اور کھانے کے بعد شائد مرنے والے کا دکھ ختم ہو جاتا ہے۔ لہذا وہ پھر کہتے ہیں کہ دو کو سال ہیں پھر تمہاری شادی ہو جائے گی۔ ایسے میں بڑا دل کرتا ہے کہ فوتگی کی مناسبت سے کہا جائے کہ دو کو سال ہیں اس کے بعد آپ کی باری ہے۔ لیکن کہہ نہیں سکتے۔

قدیر کا کہنا ہے کہ تمہیں بیوی ایسی ملے گی جو کہ تمہیں رج کے اگنور کرے۔ میں نے کہہ دیا ایسی ہی ملی ہے۔ اس کی حالت ٹائٹ ہو گئی۔ اس کو بڑی مشکل سے سمجھایا کہ ملنی لکھنا تھا ملی لکھ گیا۔

جہانزیب کا کہنا ہے تم شادی کر لو شادی کے بعد انسان ذرا ریسپانسبل ہو جاتا ہے۔ اب ان کو کیسے بتاؤں کہ شادی 50 فیصد پکی ہے۔ میں مان گیا ہوں وہ نہیں مانتی :P ویسے میرے خیال سے میں کافی ریسپانسیبل ہوں۔ شائد جہانزیب کو میں پرلے درجے کا نکما لگتا ہوں۔ اگر ایسا ہے تو جہانزیب ضرور میری امی کے پڑھائے ہوئے ہیں۔

بات سوالات سے چلی تھی شادی پر جا پہنچی۔ یہ بک بک لکھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ مجھے سوالات سے چڑ ہے۔ ہوتے ہوتے یہ ہر قسم کے سوال سے چڑ بن گئی ہے۔ اگر میرا موڈ نہیں تو آپ سوالات مت کریں۔ سوال کرتے ہیں تو پھر میرے جواب سے ناراض مت ہوں۔ ابھی قدیر احمد رانا صاحب مجھے چند دنوں سے برداشت کرتے کرتے ہمت ہار گئے ہیں۔ ہر سوال پر الٹے جواب سے وہ اتنے تنگ آئے ہیں کہ ابھی کھری کھری سنا کر گئے ہیں۔ کھری کھری تو میں اکثر ہی سن لیتا ہوں لہذا سوچا کہ اگر آئندہ کوئی قدیر کی غلطی کرے کے مجھ سے الٹے جوابات ملنے کی وجہ سے اختلاج کا مریض ہو جائے میرے سے سوال مت کریں۔

Monday, March 19, 2007

غیر معمولی کام

گڈ ول ہنٹنگ


گڈ ول ہنٹنگ میری پسندیدہ فلم ہے۔ اگرچہ یہ فلم ٹی وی پر کئی مرتبہ لگ چکی ہے اور یہ ایک نسبتا طویل فلم ہے ، لیکن مجھے ہر مرتبہ اسے دیکھنے میں لطف آیا ہے۔ اس فلم کی کہانی ایک حیرت انگیز ذہنی صلاحیتوں کے مالک نوجوان لڑکے اور اس کے نفسیاتی معالج کے گرد گھومتی ہے۔ اس فلم کا مرکزی کردار میٹ ڈیمن اور اس کے بھائی کا کردار بین افلیک نے ادا کیا جبکہ نفسیاتی معالج کے رول میں رابن ولیمز جلوہ گر ہوئے۔
گڈ ول ہنٹنگ کے طویل اور نسبتا پیچیدہ پلاٹ ہونے کے باعث مجھے ایک مرتبہ میں پوری فلم مکمل طور پر سمجھ نہیں آتی۔ یہی وھہ ہے کہ میں اسے بار بار دیکھ کر لطف اندوز ہوتا ہوں۔ چند روز یہ فلم دوبارہ ٹی وی پر لگی۔ اتفاقا میری ٹائٹلز پر نظر پڑی تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ ٹائٹلز کے مطابق اس فلم کا سکرپٹ میٹ ڈیمن اور بین افلیک نے لکھا ہے۔ میں نے فورا غیر یقینی کے عالم میں گوگل پر سرچ کی۔ کہاں میٹ ڈیمن اور بین افلیک جیسے کھلنڈررے لڑکے اور کہاں گڈ ول ہنٹنگ کا خوبصورت سکرپٹ۔ لیکن گوگل کی سرچ نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی۔ نہ صرف یہ کہ اس فلم کا سکرپٹ ان دونوں نے لکھا تھا بلکی انہیں اس کی وجہ سے بہترین سکرپٹ کا آسکر ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ رابن ولیمز کو بہترین معاون اداکار کا آسکر ایوارڈ دیا گیا۔
غیر معمولی ذہانت کی کہانیاں ہمشہ مجھے فیسی نیٹ کرتی ہیں اورمیں ہمیشہ شوق سے جینیس شخصیات کے حالات زندگی پڑھتا ہوں۔ گڈ ول ہنٹنگ ایک جینیس لڑکے ول ہنٹنگ کی کہانی ہے جو ایم آئی ٹی کے شعبہ ریاضی میں صفائی کا کام کرتا ہے اور چوری چھپے طلبہ کو دی گئی میتھیمیٹکس کی انتہائی پیچیدہ اسائنمنٹس حل کرتا رہتا ہے۔ جب ایک پروفیسر بالاخر ول ہنٹنگ کی اس صلاحیت کا سراغ لگا لیتا ہے تو وہ اسے ایک ماہر نفسیات کے پاس لیجاتا ہے تاکہ وہ اس کی ذہنی مشکلات کو سلجھا کر اسے تحقیقی کام کرنے پر آمادہ کرے۔ یہاں سے فلم کا سب سے دلچسپ حصہ شروع ہوتا ہے جو کہ ول ہنٹنگ اور اس کے ذہنی معالج کے درمیان تعمیر ہونے والے رشتے کے بارے میں ہے۔ رابن ولیمز جو کہ زیادہ تر جمن جی اور پیٹر پین جیسی فلموں میں کردار ادا کرتے رہے ہیں، اس فلم میں بالکل مختلف رول میں نمودار ہوئے ہیں اور انہوں نے بہت خوبصورتی سے اپنے رول کو نبھایا ہے۔ میٹ ڈیمن نے اس فلم میں یادگار پرفارمنس پیش کی ہے۔

نبیل کے بلاگ سے ایک اقتباس

عمرا کے کسی بھی حصے میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

عمر کے کسی بھی حصے میں کامیابی کو کیسے حاصل کیا جائے ؟



جب انسان کو اپنی ذات میں دلچسپی اور مصروفیت کے پہلو دکھائی دیتے ہیں ۔
تب اسے اپنا بوڑھا محسوس نہیں ہوتا ،
اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کی عمر کیا ہے ،
کیلنڈری حساب سے بڑھنے والی عمر کوئی معنی نہیں رکھتی ہے ،


میڈیکل سائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ انسان کی یاداشت یا ذہنی صلاحیت 25سال کی عمر میں اپنے پورے جوبن پر آجاتی ہے اور 60 سال کی عمر تک اپنی پوری آب و تاب پر رہتی ہے ۔ اب اگر انسان ان قیمتی دنوں کا بھرپور استعمال کئے بغیر وقت سے پہلے اپنی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے اور اپنی زندگی کے باقی دنوں کو گننا شروع کر دے تب یہ اس کی زندگی سے بے وفائی ہو گی ۔ اگر وہ اپنے تجربے سے بھرپور ان صلاحیتوں سے جان چھڑا کر اپنے باغ کے پودوں یا گھاس کو کاٹنے میں لگ جائے یا غیر ضروری سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دے جو اسے موت کا احساس دلاتی ہیں تب یہ اس کی اپنی کامیاب زندگی کے ساترھ ناانصافی ہوگی ۔

ٹیلی پیتھی

ٹیلی پیتھی

وکیپیڈیا سے

Jump to: navigation, search

کسی آدمی کے اپنے خیالات دوسرے کے دماغ میں منتقل کرنے کا خفیہ علم یا عمل۔ یہ علم مدت سے زیر عمل ہے۔ لیکن سائنسدان اس پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ البتہ اب کچھ سائنس دان اس کو اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر تسلیم کر چکے ہیں۔ اس موضوع پر سب سے عمدہ لٹریچر ڈاکٹر رائس کی تصنیف ہے۔ ڈاکٹر موصوف کا خیال ہے کہ خیالات منتقل کرنے کی طاقت کم و بیش ہر شخص میں پائی جاتی ہے۔ اس نے اپنے تمام دعووں کو اپنے عمل میں تجربات کے ذریعے ثابت کیا ۔اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ انے معمل میں تاش کے پتوں کی رح کے پتوں کی ایک گڈی رکھتا تھا۔ ان پتوں پر چار قسم کے سادہ ڈیزائن منقش تھے۔ عامل گڈی پر سے ایک ایک کارڈ اٹھاتا جاتا تھا۔ اور معمول محض عامل کے چہرے پر نظر ڈال کر ان پتوں کی حقیقت بتاتا جاتا ۔ چنانچہ ایک بارہ سالہ بچے نے تاش کی تمام گڈی کے ہر پتے کی کیفیت صحیح صحیح بتا دی ۔

ٹیلی پیتھی سے متعلق سب سے پہلے مسٹر سجوک Sidgwick نے 1871ء میں تجربات کیے تھے۔ اس علم کے بارے میں اب بھی مطالعہ اور تحقیق جاری ہے ۔ سر ڈبلیو کرکس نے اس علم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امواج کے ایک سلسلے کی بدولت ایک انسان دوسرے تک اپنے خیالات پہنچا سکتا ہے۔ اسی قسم کا نظریہ ہندوؤں میں بھی پایا جاتا ہے۔

ٹیلی پیتھی کیا ہے؟

ٹیلی پیتھی کیا ہے؟


سوال

ٹیلی پیتھی کیا ہے؟ اس سے کیا ہو سکتا ہے؟ اور یہ دنیا میں کتنے لوگ جانتے ہیں؟



جواب

ٹیلی پیتھی ایک خداداد صلاحیت ہے جو چند لوگوں ہی میں ہوئی ہے۔ اس صلاحیت کے لوگ ایک دوسرے سے ذہنی طور پر منسلک ہو سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ذہن آپس میں "وائرلیس" کی طرح پیغام رسانی کر سکتے ہیں۔ اگرچہ سائنسی طور پر اس کو ابھی ثابت نہیں کیا جا سکا، لیکن اس پر تحقیق جاری ہے۔ یہ بتانا ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں کتنے لوگ اس صلاحیت کے مالک ہیں۔ بہرکیف اس صلاحیت کا ہونا ثابت ہے۔ اس موضوع پر کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ اردو میں اس پر کوئی معتبر کتاب نہیں انگریزی میں چند اچھی کتب موجود ہیں۔

ہم سب دوست ویب ساءٹ سے اقتباس

ٹیلی پیتھی یا چھٹی حس

چھٹی حس یا ٹیلی پیتھی ؟

Posted by اجمل on June 29th, 2005

آج سے پچیس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں حکومت پاکستان کی طرف سے لیبیا کی حکومت کے ایڈوائزر (انڈسٹریل پلاننگ) کی حیثیت سے طرابلس میں متعین تھا۔ میرا چھوٹا بیٹا فوزی اس وقت سوا پانچ سال کا تھا۔26 جون 1980 بروز بدھ فوزی سکول سے واپس آیا تو کھانے پینے سے انکار کر دیا اور ایک کونے میں قالین پر بیٹھ کر آنسوؤں کے ساتھ رونا شروع کر دیا کہ میں نے پاکستان جانا ہے۔ اس وقت پاکستان میں لگ بھگ ساڑھے تین (پاکستان میں ساڑھے پانچ) بجے بعد دوپہر کا وقت تھا ۔ میں نے بہلانے کی کوشش میں کہا اچھا کل دفتر جا کر چھٹی لوں گا اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ لے کر آؤں گا پھر پاکستان چلیں گے۔ لیکن فوزی نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ میں نے ابھی اور اسی وقت پاکستان جانا ہے۔ ہر طریقہ سے بہلانے کی کوشش کی۔ اس کی مرغوب ترین ملک چاکلیٹ بار۔ میکنٹاش کوالٹی سٹریٹ کا ڈبہ۔ آٹومیٹڈ کھلونے۔ مگر کسی لالچ نے کوئی اثر نہ کیا۔ فوزی رات تک روتا رہا اور تھک کر سو گیا۔
اگلے دو دن سکول واپس سے آ کر پھر پاکستان جانے کا تقاضہ شروع ہو جاتا ۔ روتا بھی مگر زیادہ نہیں ۔ 29 جون کو میرے دفتر سے آتے ہی فوزی نے پہلے دن کی طرح متواتر رونا اور پاکستان جانے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ ہم میاں بیوی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا کہ کیا کریں ۔ ہماری پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ فوزی نے کبھی زیادہ ضد نہیں کی تھی ۔ نہ ہی خاص روتا تھا اور ہماری بات مان بھی لیا کرتا تھا ۔
آخر 30 جون کو ہمیں دو تاریں اکٹھی ملیں۔ یہ میرے بہنوئی کی طرف سے تھیں۔ میری دو بہنیں پاکستاں میں تھیں باقی دو بہنیں لیکن ہم چاروں بھائی ملک سے باہر تھے۔ ایک تار 27 جون کی صبح کی تھی لکھا تھا ماں شدید بیمار ہے جلدی پہنچو۔ دوسری 29 جون کی تھی کہ والدہ فوت ہوگئیں ہیں جلدی پہنچو۔ کسی شخص کی بےوقوفی کی وجہ سے ہمیں یہ دونوں تاریں اکٹھی ملیں ۔ پاکستاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ بدھ 26 جون کو سوا پانچ ساڑھے پانچ کے درمیان میری والدہ محترمہ کر سٹروک یعنی برین ہیموریج ہوا تھا اور وہ کوما میں چلی گئیں تھیں اور 29 جون بعد دوپہر فوت ہوئیں ۔
اتنے چھوٹے بچے کے دل میں ہزاروں میل دور کس نے پاکستان جانے کا خیال ڈالا۔ اور کس چیز نے اس کو اتنا رلایا۔ اس سوال کا جواب آج کے بڑے سے بڑے سائنسدان کے پاس نہیں ہے ۔
افتخار اجمل کے بلاگ سے اقتباس

Sunday, March 18, 2007

ویب ساءٹ سیفٹی اقدامات

میں نے عرفان نواز کی ویب ساءٹ پر یہ اقدامات دیکھنے حفاظتی نقطہ نظر سے

کوءی مہمان کسی بھی ممبر پبلک پروفاءل نہیں دیکھ سکتا
اس میں جو خاص
اور
قابل غور بات ہے وہ یہ ہے کہ کسی ممبر کو بھی اجازت نہیں کہ وہ کسی ممبرکا پبلک پروفاءل دیکھے
(میرے خیال میں یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ کوءی بھی مخالف ویب ساءٹ یا مخالفین کے ممبرز کو ہاءی جیک نہ کریں ایک لحاظ سے یہ بہت مضبوط اقدام ہے۔اپنے ممبرز اپنے پاس ہی رکھنے کے لیے کیونکہ پروفاءل دیکھ کر کوءی بھی ان کے ای میلز حاصل کر سکتا ہے۔)

Tuesday, March 13, 2007

میرا تعارف آپ سب کے لیے حاضر ہے

نام ہے میرا چوہدری عمران باجوہ
کام ہے میرا
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
ہوں بتاوں گا انتظار کریں اتنے بے تاب نا ہوں ضرور بتاوں گا۔
یہ تو تھا ابتداءی تعارف
باقی وقت ملنے پر۔
میں انشاء اللہ اپنے سٹار کے متعلق آپ سے کچھ شیءرنگ کروں گا۔
۔
۔
۔
۔
۔